Latest Posts:

ایران، امریکہ اور پاکستان — آخر کب تک قیمت صرف پاکستانی عوام ادا کریں گے؟

 جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، بم کہیں اور گرتے ہیں لیکن ان کی گونج پاکستان کے ہر گھر میں سنائی دیتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پاکستان جیسے کمزور معاشی ممالک کے لیے ایک نئے امتحان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔


سوال یہ ہے کہ آخر کب تک پاکستانی عوام عالمی طاقتوں کی کشمکش کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟


ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں لوگ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بل، گرتی ہوئی قوتِ خرید اور معاشی بے یقینی سے نبرد آزما ہیں، وہاں کسی بھی نئی جنگ کی خبر خوف کی نئی لہر بن کر آتی ہے۔ اگر خطے میں جنگ پھیلتی ہے تو تیل مہنگا ہوگا، ڈالر مزید مضبوط ہوگا، روپیہ مزید کمزور پڑے گا، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور عام آدمی کی زندگی پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہو جائے گی۔


افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر عالمی بحران کا سب سے بڑا بوجھ وہ طبقہ اٹھاتا ہے جس کا ان فیصلوں میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ مزدور، کسان، سرکاری ملازم، چھوٹا دکاندار اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والا شخص ایک بار پھر مہنگائی کی چکی میں پس جائے گا۔


پاکستان کو اس وقت جذباتی نعروں یا کسی عالمی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے صرف اور صرف اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔ ہمیں ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو امن، توازن اور دانشمندی پر مبنی ہو، کیونکہ جنگ میں فتح کسی ایک کی نہیں ہوتی، نقصان سب کا ہوتا ہے۔


یہ وقت سیاست کے شور میں مزید تقسیم ہونے کا نہیں بلکہ معیشت کو مضبوط بنانے، صنعت کو سہارا دینے، برآمدات بڑھانے، خود انحصاری اختیار کرنے اور قومی اتحاد پیدا کرنے کا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی سبق نہ سیکھا تو کل تاریخ یہی لکھے گی کہ پاکستان کو دشمنوں سے زیادہ اس کی معاشی کمزوری نے نقصان پہنچایا۔


یاد رکھیں! جب قوم کی معیشت کمزور ہو جائے تو صرف کرنسی نہیں گرتی، عوام کی امیدیں بھی ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اور جس قوم کی امیدیں مر جائیں، اسے سنبھالنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر قسم کی جنگ، معاشی بحران اور سیاسی انتشار سے محفوظ رکھے، اور ہمارے حکمرانوں کو ایسے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد میں ہوں۔ آمین۔



Post a Comment

0 Comments